بنگلورو، 29/نومبر(ایس او نیوز) موجودہ تعلیمی سال ختم ہونے ابھی چند مہینے باقی ہیں جبکہ بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے ( بی بی ایم پی) کی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو اپنے یونیفارم ، جوتے اور کتابوں کیلئے اب بھی انتظار کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ معاملہ اس وقت روشنی میں جب بی بی ایم پی کی اسٹانڈنگ کمیٹی برائے تعلیم نے پیر کو چند اسکولوں کا معائنہ کیا۔کمیٹی کی چےئر پرسن گنگما راجنا نے بتایا کہ جب ان کو فریزر ٹاؤن کے ایک اسکول کو جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ وہاں کے بچوں کو کتابیں ، یونیفارم اور جوتے ابھی تک نہیں ملے ہیں، انہوں نے بتایا کہ چونکہ دسمبر شروع ہونے والا ہے ،اگر ان بچوں کووقت پر کتابیں دستیاب نہیں ہوئیں تو وہ کیا پڑھیں گے۔بعد ازاں گنگما نے کمشنر کو یہ ہدایت دی کہ کنٹراکٹروں کی بلاک لسٹ تیار کریں اور اس سے متعلق افسروں کو ہدایت دیں کہ جلد از جلد بچوں کو کتابیں اور دوسری چیزیں مہیا کریں ۔ بی بی ایم پی کے اسکولوں کے ٹیچروں کے بارے میں گنگمانے بتایا کہ ان کی حالت خاکروبوں سے بھی بد ترہے ،کیونکہ ان کو ہر مہینہ تنخواہ 14,000روپئے ملتی ہے ۔ لیکن یہاں چند ٹیچروں کو صرف8000روپئے تنخواہ ہر مہینہ ملتی ہے ۔اس سے بنگلورو جیسے شہر میں جینا بہت مشکل ہے جس کے لئے ٹیچروں کو صبح9:30بجے سے شام 3:00بجے تک کام کرنا پڑتا ہے۔